فکر مکاتب🌷 مجلس کے اہم اور بصیرت افروز نکات 🌷
🎤 بیان: حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم العالیہ
✍️ تحریر : حافظ الطاف ہتھورنی گجرات
تاریخ 14/10/2026
آج حضرت کی مجلس تھی،مجلس میں آپ نے بہت اہم اہم باتیں کی، ان میں سے چند نکات میں یہاں جلدی جلدی میں لکھ رہا ہوں۔اخلاص، نیت اور خادمانہ مزاج*
خاموش خدمت: مکاتب دین کی خاموش خدمت ہیں، اس لیے مکتب کا کام شہرت کے بجائے خاموشی اور یکسوئی کے ساتھ کریں۔
*
چھپ کر کام کریں: کام خوب جم کر اور چپ چاپ کریں، نمائش اور دکھاوے سے بچیں۔
*
اجر کی نیت: مکتب کی تدریس کو محض معاوضے اور اجرت کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ اجرِ آخرت اور ثواب کی نیت سے پڑھائیں۔
*
اخلاق و اخلاص کا فقدان: بچے سات سال تک مکتب میں رہنے کے باوجود دینی مزاج سے محروم کیوں رہ جاتے ہیں؟ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے اندر اخلاق اور اخلاص کی کمی ہے۔
طلبہ کے ساتھ برتاؤ اور حسنِ سلوک*
مار پیٹ کا خاتمہ: مار کر تو دیکھ لیا، اب بغیر مارے شفقت اور محبت سے پڑھا کر بھی دیکھیں۔ مار پیٹ دراصل استاد کے طریقۂ تعلیم سے عاجز آجانے اور ہمت ہارنے کا ثبوت ہے۔
*
قیدی اور جیلر جیسا ماحول نہ ہو: مکاتب میں ایسا سخت ماحول نہ بنائیں کہ بچے خود کو قیدی اور استاد کو جیلر محسوس کریں۔
*
غصے کے وقت بددعا نہیں، دعا دیں: بچہ ستائے تو غصہ نکالنے کے بجائے اسے نیک دعا دیں (جیسے شیخ سدیس حفظہ اللہ کی والدہ نے دعا دی تھی: "اللہ تجھے حرم کا امام بنائے")۔
*
بچے کی نفسیات کا ادراک: بچہ استاد سے براہِ راست بدلہ نہیں لے سکتا، اس لیے وہ مار کے ردِعمل میں سبق سنانا چھوڑ دیتا ہے یا غیر حاضر رہنے لگتا ہے۔
*
تاخیر پر استقبال اور فہمائش: بچہ دیر سے آئے تو سختی کے بجائے پہلے اسے خوش آمدید کہیں، پھر نرمی سے نقصان سمجھائیں۔ بچوں کے عذر کو قبول کرنا سیکھیں۔
*
شہد کی مکھی کا مزاج اپنائیں: بچوں میں خامیاں مت تلاش کریں، بلکہ اچھائیاں دیکھیں۔ شہد کی مکھی پھول تلاش کرتی ہے جبکہ خنزیر گندگی؛ اساتذہ کو اپنے اندر خیر تلاش کرنے کا مزاج پیدا کرنا چاہیے۔
*
حکمت والی سزا: اگر بچہ بہت زیادہ ہی شرارت کرے تو حد سے حد دس اٹھک بیٹھک کرائیں، اس سے زیادہ نہیں۔ قرآنی بچے سے کوئی لغزش ہو تو درسگاہ میں صلوٰۃ التوبہ پڑھوائیں۔
طریقۂ تعلیم اور فنی باریکیاں*
طریقۂ فن نہیں، طریقۂ تعلیم: ہماری ترتیب ناظرہ خوانی سکھانے کی ہے، تجوید کے عمیق اصول سکھانے کی نہیں۔ لہٰذا قاعدہ فن کی حیثیت سے نہیں بلکہ درست ناظرہ پڑھنے کی حیثیت سے پڑھائیں۔
*
صحتِ الفاظ پر توجہ: حروف کی درستی پر زور دیں، بچوں پر پیچیدہ مخارج کی علمی بحثیں نہ لادیں؛ مخارج کی طرف محض لطیف اشارہ کافی ہے۔
*
الفاظ کا انتخاب: کتاب پڑھاتے وقت غیر ضروری سخت الفاظ (کافر وغیرہ جیسے الفاظ) سے گریز کریں اور "غیر مسلم" (یا برادر وطن) جیسے شائستہ الفاظ استعمال کریں۔
*
بچوں کی اکتاہٹ اور ذہنی معیار کا خیال: بچوں کی نفسیات، ان کی ذہنی استطاعت اور تھکن کا پورا لحاظ رکھیں۔
*
ہم پلہ طلبہ کے درمیان مسابقہ: بچوں میں شوق پیدا کرنے کے لیے مقابلے کروائیں، مگر معیار کا خیال رکھیں: اعلیٰ کا مقابلہ اعلیٰ سے، اوسط کا اوسط سے، اور کمزور کا کمزور طالب علم سے ہو۔
*
حاضری پر حوصلہ افزائی: پابندیٔ وقت اور حاضری کی عادت ڈالنے کے لیے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایک مختصر سی مجلس منعقد کریں اور طلبہ کو انعامات دیں۔
انتظام، جماعت بندی اور فکرِ دعوت*
جماعت بندی کا اہتمام: مخلوط بچوں میں بھی جماعت بندی قائم کریں، چاہے دو ہی بچے کیوں نہ ہوں۔ سبق اجتماعی ہو اور محنت انفرادی ہو۔
*
نظام کی پابندی: بچوں اور ان کے سرپرستوں کو مکتب کے نظام و اوقات کا پابند بنائیں۔
*
اساتذہ کی باہمی نشست: ہر مکتب میں منظم جماعت قائم ہو اور مہینے میں ایک بار اطراف کے تمام اساتذہ جمع ہو کر سر جوڑیں کہ مکتب کی تعلیم کو کس طرح مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
🤲 دعا:
ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور مانگیں:
یا اللہ! ہمارے تمام مکاتب اور مدارس کی حفاظت فرما، غیب سے بھرپور نصرت فرما، اور دین کے خادموں کو صحت، قوت، عافیت، اخلاص اور استقامت عطا فرما۔ آمین!
ناشرو ترتیب: مکتب الصفہ اچلپور
https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s